News

Eid Milan Reception

news_image

   

 

 

Address by Maulana Mahmood Madani, General Secretary, Jamiat Ulama-i-Hind

My Friends and Fellow Countrymen

عید الفطر مبارک!

جمعیۃ علماٗ ہند کے عید ملن   Celebration  کا مقصد

Universal Humanitarian Values

کا   Promotion ہے خاص طور سے ہندستانی سماج کی  گنگا جمنی Life style  میں اور گہرا رچاوٗ پیدا کرنا ہے۔ وہ Life Style   جوکہ اس زمین پر بسنے والے لوگوں کے غم اور خوشیاں، رشتے ناتے، کھانا پینا، جشن اور سوگ اور یہاں تک کے معاشی ضرورتوں کو بھی ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا ہے۔ ہمیں حوصلہ ہے کہ ہم اس روایت کو اپنے سانسکرتک (cultural)ڈھانچے سے الگ نہیں ہونے دیں گے۔  دراصل ہمارے حوصلے کی جڑیں جمیعت علماٗ ہند کی تاریخ اور روایت میں پیوست ہیں جو  جوڑتی ہے توڑتی نہیں۔ اپناتی ہے دھتکارتی نہیں۔ بناتی ہے بگاڑتی  نہیں۔جو  بڑھ کر گلے لگانے کی تاریخ ہے ۔ امن اورایکتا  کی پر امید جدو جہد کی ایک inspiring   داستان ہے۔

 

عید چونکہ رمضان کے روزوں کا انعام ہے اسلئے رمضان اور روزے کی Spirit کو سمجھنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ذرا سا غور کریں تو صاف سمجھ میں آ جائیگا کہ رمضان  میں بھوک کا احساس  نادار اور مالدار کے درمیان دوری کو کم کرنے کا   سب سے کارآمد ذریعہ ہے ۔ بھوکے رہو تاکہ احساس ہو کہ بھوک کی تکلیف کیا ہوتی ہے۔ صبر کرو۔ معاف کرو۔ معافی مانگو۔ بھلاچاہو۔ایسا کرنے سے دوریاں مٹ جائینگی۔ قربتیں بڑھینگی۔ بد گمانیاں دور ہونگی۔ محبت کو پنپنے کا موقعہ ملیگا۔ ایک دوسرے کی کمزوریاں اور مجبوریاں نظر انداز کرنے کا حوصلہ پیدا ہوگا۔ اور جس سوسائٹی کے  Members  ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹنا، آڑے وقت میں کام آنا،،  اور ایک دوسرے کو  اپنانا سیکھ لیں تو پھر ایسےسماج کا ذہنی سکون کسی    luxury  کا محتاج نہیں رہتا۔

 

عید سماجی خوشی کے اس راز سے Refreshed  اور renewed  واقفیت کا جشن ہے۔ آئیں ہم سب مل کر جشن منائیں اور اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ انسانی ہمدردی، Mutual acceptance، اور اس sharing  اور Caringکو ہم پوری زندگی اپنائے رکھینگے۔

یہ ہے رمضان کی relevance کہ یہ مہینہ نہ صرف انسانوں کو خدا کے قریب لاتا ہے بلکہ انسانوں کو انسانوں سے جوڑتا ہے۔ ہم آج یہاں ان   unities کا جشن منانے آئے ہیں۔

 

گو کہ روزہ  بحیثیت عبادت کےتمام مذاہب میں شامل ہے اس کے علاوہ بہت سے طبی فوائد بھی گنوائے جا سکتے ہیں، اور بھی دنیاوی اور سیاسی مقاصد کے لئے بھوک ہڑتال کا استعمال کیا جاتا ہے ،لیکن اسلام میں اس سب سے بڑھ کر اپنے پروردگار کو خوش کرنے کے لئے رکھا جاتا ہے ،اور پروردگار کو خوش کرنے کا آسان طریقہ اس کی مخلوق کو خوش کرنا اور اس کے دکھ درد کو بانٹنا ہے اس لئے اسلامی روزہ میں وہ تمام چیزیں ضروری قرار دی گئیں جس سے تمام انسانوں کو تکلیف پہونچانے سے بچا جائے بلکہ ان کو راحت پہونچائی جائے،اور تبھی ہماراپروردگار ہم سے اتنا خوش ہوگا کہ اس نے خود فرمایا ہے کہ روزہ کا انعام میں خود دوں گا،یا روزہ کے انعام میں تم خود مجھے پا سکتے ہو۔اگر ہم روزہ کے اس ideaپہ نظر رکھیں تو عید کی خوشی اور عید منانے کا مطلب خود بخود سمجھ میں آجائے گا ۔

رمضان کی آمد سے کچھ دن قبل عالمی سطح (international level)پر دو بڑے دل دھلا دینے والے دہشت گردی کے واقعات پیش آ ئے پہلے نیوزی لینڈ میں اور پھر  سری لنکا میں ۔ ان سے ہم نے دو اہم سبق سیکھے ایک تویہ کہ کچھ مٹھی بھر شیطانی افراد اور طاقتیں کس طرح مشترکہ انسانی سماج میں پھوٹ دالنے اور امن عالم (world peace)کو غارت (destroy)کرنے پر تلی ہوئی ہیں ۔

 

دوسرا سبق ہم نے یہ بھی سیکھاکہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی ہم ایک دوسرے کے ساتھ سہان بھوتی اور پریم کے ذریعے انسان دشمن طاقتوں اور دہشت گردوں کو ناکام بنا سکتے ہیں،اس سلسلے میں ہم نیوزی لینڈ کی Prime Minister  کی دانشمندانہ قیادت (wise leadership)اور اقدامات کو تہ دل سے appreciate کرتےہیں ۔اسی طرح سری لنکا  اور ہندستان میں عیسائی مذہبی رہنمائوں کا ہم شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے مسلمان رہنمائوں کے ساتھ مل کر ایسے نازک موقع پر ہمیں آپس میں نہ صرف جوڑے رکھا بلکہ عالمی امن کو بچایا۔آپ کے سامنے اوسوالڈ کارڈینل گراسیس (Oswalad Cardinal Gracias)  اور مختلف مذہبی رہنمائوں سوامی چیدانند سرسوتی جی،--------------- ------- ---------------------- ------------------------------------------- -------------------کی موجودگی ہمیں حوصلہ دیتی ہے ،کہ دہشت گرد شیطان ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔

 

مذہبی کٹرپنتھی اور قتل و غارت گری  کا حل اینٹ کا جواب پتھر سے ہرگز نہیں ،بلکہ باہمی بات چیت امن و سلامتی اور tolerance کے ذریعہ ہی فرقہ پرستی اور تشدد کا مقابلہ کر سکتےہیں Communalising Forces کا سامنا Humanitarian Spirit سے کرنا ہے جیسا کہ ہمارے اکابرین کی روایت رہی ہے کہ انہوں نے ملک کی شانتی اور سلامتی کی حفاظت کرنے  میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ Composite Nationalism کا ان کا نظریہ جس کا ہمارے بڑوں نے صرف زبان سے پرچار نہیں کیا بلکہ Practiceکرکے دکھایا ۔آج صرف ہمارے ملک کے لئے ہی relevant نہیں بلکہ سارے عالم کے لئے ماڈل ہے ۔ ہم بحیثیت ہندستانی  مسلمان اگر اس Messageکو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں تو بہت سے  ہمارےمسائل Gradually  خود بخود حل ہو جائینگے۔ اور ساری دنیا میں امن عالم کے بقا   ء   میں ہمارا  اہم کردار ہوگا ۔

 ہمارا پیارا وطن ہمیشہ ایکHarmonious Interdependence  پہ چلتا رہا ہے اور آگے بھی انہی Values کے سائے میں ترقی کی راہ پر چلتا رہیگا۔ ایک بار پھر عید کی محبت بھری مبارکباد۔

 

 

 

 

June 13, 2019, 12:33 p.m.