17th Fiqh Ijtima Banaglore

میڈیکل انشورنس سےضرورت کے وقت استفاد ہ کی اجازت ، جی ایس ٹی ریٹرن کی امید نہ ہو تو اس میں سرکار سے حاصل شدہ سودی رقم صرف کرنے کی گنجائش۔ اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ اور ایکس مسلم کے شرارت انگیز ٹی وی پروگراموں کے خلاف تجویز منظور

اہم اور تاریخی تجاویز کے ساتھ ادارۃ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علما ء ہند کا سترہواں فقہی اجتماع مکمل، مولانا ارشد مدنی، مفتی ابوالقاسم نعمانی،مولانا محمود اسعد مدنی سمیت کئی اہم شخصیات کا خطاب

نئی دہلی 14/ اگست 2022:

ادارۃ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام سترہواں سہ روزہ فقہی اجتماع،حج بھون بنگلور کرناٹک میں منعقد ہوا ۔ اس اجتماع میں جہاں ”شرکت محدودہ“،جی ایس ٹی میں سودی رقم کا استعمال“ اور”ہیلتھ انشوررنس“ پر طویل مناقشات کے بعد اہم شرعی فیصلے کیے گئے، وہیں ملک میں موجودہ اسلام مخالف ماحول پربھی تجویز منظور کی گئی۔

اس اجتماع میں دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلما لکھنو، جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد، مظاہر علوم سہارن پوراور جنوبی ہند کے معروف اداروں سمیت ملک بھر سے دو سو سے زائد ارباب افتاء نے شرکت کی اور اپنے اپنے مقالات تحریری طور پر پیش کیے۔الگ الگ نشستوں کی صدارت امیر الہند صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی، مہتمم دار العلوم دیوبند مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، مولانا رحمت اللہ کشمیری رکن شوری دارالعلوم دیوبند، مفتی محمد راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند،مفتی عتیق احمد بستوی استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء وغیرہ نے کی، جب کہ خطبہ افتتاحیہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر اور اس فقہی اجتماع کے روح رواں مولانا محمود اسعد مدنی نے پیش کیا۔اجلاس میں نائب امیر الہند مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری نے مباحث فقہیہ کے طور طریقوں پر روشنی ڈالی ۔جب کہ اجتماع کی نشستوں میں امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد خاں رشادی، مفتی شعیب اللہ خاں مفتاحی بنگلور، مولانا مقصود عمران بنگلور، مولانا محمود حسن کھیروا، مولانا ظہیر بنگلہ دیش، مولانا یاسر ندیم امریکہ مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔

اپنے خصوصی خطاب میں امیر الہند مولانا ارشد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند نے اپنے خصوصی خطاب میں امیر الہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ فتوی اصلاً اصحاب تقوی کاکا م ہے،ہند میں اس کا سلسلہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ سے شروع ہوتے ہوئے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے سلسلے سے علمائے دیوبند تک پہنچا۔فقہی مسائل میں اجتماعی غور وفکر کی روایت زمانہ قدیم میں بھی رہی ہے، انگریزوں کے دور میں اس سلسلہ میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ آزادی کے بعد سید الملت حضرت مولانا سید محمد میاں دیوبندی ؒ نے باقاعدہ ادارۃ المباحث الفقہیہ کے نام سے ایک مستقل شعبہ قائم کیا جس کا مقصد جدید مسائل کا شرعی حل تلاش قرار پایا۔ ان کے وصال کے بعد حضرت فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی ؒ نے 1989 میں اس شعبہ کو دوبارہ متحرک اور فعال بنایا، جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ اس سلسلے کو جدید نسل کے علماء نے بخوبی اپنایا ہے۔

آخری نشست میں اپنے صدارتی خطاب میں مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند نے مسائل کی تحقیق کے سلسلے میں اعتدلال کو اختیار کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ان اجتماعات میں وہی جدید مسائل رکھے جاتے ہیں جن کا ماضی کے فقہاء کی کتابوں میں حل موجود نہیں ہے، جو ترقی پسند سوچ کا مظہر ہے۔انھوں نے مفتیان کرام کو مشورہ دیا کہ نہ سہولت کی تلاش ہو اور نہ ہی اپنے فتووں میں شدت کی راہ اختیارکی جائے۔

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تمام آئینی حقوق، جمہوریت اور قانون کا منبع ملک کا آئین ہے، اس لیے اس کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ملک میں کچھ طاقتیں ایسی ہیں جو مسلمانوں کو اس لیے نشانہ بناتی ہیں کہ وہ اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں، ہمیں بہر صورت ان سے ہوشیار رہنا ہے اور دانش مندی سے حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔

دور حاضر میں میڈیکل ہیلتھ انشورنس کا معاملہ فقہی اور دینی تناظر میں کافی اہم رہا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں منظور کردہ فقہی تجویز میں کہا گیا کہ موجودہ ملکی و بین الاقوامی حالات کے تناظر میں کسی بھی ناقابل تحمل مصارف ِبیماری میں مبتلاہونے کے اندیشے سے اگر ضرورت مند لوگ میڈیکل انسورنش کی پالیسی سے استفادہ کریں تو اس کی گنجائش ہے۔میڈیکل انسورنش کراتے وقت یہ بہتر ہے کہ کمپنی سے یہ معاہدہ کرلیا جائے کہ سالانہ پریمیم جمع کرنے کے عوض میں کمپنی سال میں کم ازکم ایک مرتبہ میڈیکل چیک اپ ضرور کرائے گی، تو ایسے میں ہیلتھ انشورنس کی پالیسی سے بھی استفادہ کی اجازت ہے۔

جی ایس ٹی میں سودی رقم صرف کرنے پر ایک ہی اہم تجویز میں ان امور پر اتفاق ہوا کہ جس صورت میں جی ایس ٹی میں دی جانے والی رقم صارف یا تاجر کو واپس ملنے کی امید نہ ہو اور وہ رقم بالواسطہ یا بلا واسطہ سرکار کو پہنچتی ہو، تو اس میں سرکاری اداروں سے حاصل شدہ سود کی رقم دینے کی گنجائش ہے۔نیز دکاندارصارف (خریدار) سے جی ایس ٹی کے نا م پر متعین رقم وصول کرلے تو اس رقم کو حکومت تک پہنچانا لازم ہے، اسے کسی تدبیر سے اپنے لیے روکنا درست نہیں۔

شرکت محدودہ سے متعلق تجویز میں یہ طے پایا کہ شرکت محدودہ اصولی طو رپر عنا ن یا مضاربت کے قریب تر ہے، لہذا اگر ایسی کمپنی کا بنیادی کاروبار سو د وقمار اور اشیائے محرمہ (حرام چیزوں)کی صنعت و تجارت پر مشتمل نہ ہو تو ایسی کمپنی قائم کرنا اور اس میں شریک ہونا، ملازمت کرنا اور اس سے منافع حاصل کرنا جائز ہے۔ اگر ایسی لمیٹیڈ کمپنی خسارے سے دوچار ہوجائے تو ذمہ داران پر منقولہ اور غیر منقولہ املاک اور اثاثوں کو فروخت کرکے قرض اور دیگر بقایا جات کی ادائیگی لازم ہے، اس کے بعد بھی اگر کمپنی کے ذمہ کچھ دین باقی رہ جائے اور خسارے کا سبب ذمہ داروں کی طرف سے لاپروائی اور تعدی ہو تو دین کی ادائیگی بہر حال ان کے ذمہ شرعا ً ضروری ہو گی۔

ملک میں موجودہ اسلام مخالف ماحول پر تجویز میں کہا گیا کہ ملک کی موجود ہ صورت حال دیکھ کر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ملک گیر سطح پر اسلامی احکام اور مسلم شناخت کے خلاف منظم انداز سے کوششیں کی جارہی ہیں اور ان کو موثر بنانے کے لیے میڈ یا اور سوشل میڈ یا کا بھر پور سہارا لیا جار ہا ہے۔کچھ میڈیا چینل ایسے پروگرام پابندی سے پیش کر رہے ہیں جن میں ایسے افراد کو اسلام کے خلاف تبصرہ کرنے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے جنہوں نے کسی وجہ سے اسلام ترک کر دیا ہے اور اب وہ باطل کا آلہ کار بن چکے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کا یہ اجتماع ایسی تمام کوششوں کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ وہ میڈیا چینلوں سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ ایسے مسائل میں اپنی دل چسپی دکھائیں گے جو ملک کی ترقی سے متعلق ہوں۔ اسلام مخالف کذب بیانی پرمشتمل پروگراموں سے فرقہ پرستی میں اضافہ ہوتا ہے جو ملک کی ترقی کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔یہ اجتماع مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ میڈ یا اور سوشل میڈ یا پر چلائے جار ہے ان گستاخانہ پروگراموں سے متاثر نہ ہوں، علمائے دین سے دینی رہ نمائی کے لیے رجوع کر یں، باطل کے اس طریقہ واردات کو سمجھیں اور دل میں اس بات کو بٹھالیں کہ حق کی پہچان یہی ہے کہ اس کو چہار طرفہ حملوں کا نشانہ بنا یا جا تا ہے۔اس کے باوجود میڈ یا یا سوشل میڈ یا کے کسی چینل پلیٹ فارم پر اگر گستاخانہ مواد نشر ہوتا ہے، تو چند منتخب افراد ایسے چینلوں اور پلیٹ فارمز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں اور ایف آئی آر درج کرائیں۔
ان تجاویز کی منظوری کے بعد یہ اجلاس مولانا سید ارشد مدنی کی دعاء پر مکمل ہوا، شکریہ کی تجویز ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا حکیم الدین قاسمی نے پیش کی۔

اجتماع میں مذکورہ بالا شخصیات کے علاوہ مفتی نذیر احمد باندی پورہ کشمیر، مفتی شبیر احمد قاسمی شاہی مرادآباد، مولانا مجیب اللہ گونڈوی استاذ دارالعلوم دیوبند،مفتی زین الاسلام مفتی دارالعلوم دیوبند، مفتی سید معصوم ثاقب قاسمی، مفتی عبدالرزاق امروہوی، مفتی امانت علی وقف دارالعلوم ویوبند، مفتی ثناء الہدی قاسمی، مفتی اختر امام عادل بہار، مولانا مفتی زید مظاہری دارالعلوم ندوۃ العلماء، مولانا ظفر عالم ندوی دارالعلوم ندوۃ العلماء، مفتی صالح مظاہر علوم، مولانا بدراحمد مجیبی پٹنہ،مفتی زین العابدین کرناٹک، مفتی افتخار صدر جمعیۃ علماء کرناٹک، مفتی شمس الدین بجلی کرناٹک، مفتی عفان منصورپوری،مفتی اسعد الدین قاسمی ناظم امارت شرعیہ ہند وغیرہم بھی مناقشے اور تاثرات میں شریک ہوئے۔نظامت کے فرائض مشترکہ طور سے مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری اور مفتی عبدالرزاق امروہوی نے انجام دئیے۔

 

Medical insurance allowed when required, scope to spend interest amount received from Govt if GST return is not expectable.

Resolution about propaganda against Islam and mischievous TV programs of X- Muslims passed in Jamiat fiqhi ijtema

More than 200 Islamic scholars gather in Bangalore to discuss religious verdicts about the above-mentioned issues.

New Delhi 14/ August 2022: The 17th three-day jurisprudential gathering concluded today by Idarat Al-Mabahid al-Fiqhiyyah Jamiat Ulama-i-Hind at Hajj Bhavan, Bangalore, Karnataka. In this gathering, important Shariah decisions were taken after hefty deliberations on issues such as limited company, use of interest money in GST and "health insurance". Apart from this, a proposal was also moved on the current anti-Islamic environment in the country.

In this gathering, more than two hundred scholars from across the country, including those from Darul Uloom Deoband, Nidwat Ulama, Lucknow, Jamia Qasmia Shahi Moradabad, Mazahir Uloom Saharanpur, and other well-known institutions of South India, participated and presented their papers in writing.

Going beyond their agenda, the Islamic scholars passed a resolution on the current anti-Islamic environment in the country. The resolution reads that “It becomes clear that systematic efforts are being made against Islam and Muslim identity at the national level. And to make them effective, Media and social media are used as tools extensively. Some media channels are playing programs in which people are invited to make comments against Islam, especially those who for some reason discarded Islam and now became tools in the hands of anti-Islamic forces. This gathering of Jamiat Ulama-i-Hind strongly condemns all such attempts. It expects the media channels to show their interest in issues that are related to the development of the country. Programs containing anti-Islamic false statements augment communalism which is very harmful to the development of the country.
This gathering appeals to the Muslims not to be influenced by these blasphemous programs being run on the media and social media and to approach the religious scholars for religious guidance. However, if offensive content is broadcast on any channel or at the platform of Social Media, take legal action and lodge an FIR against channels and platforms.”
The gathering while discussing medical insurance unanimously passed a resolution that in the context of the current domestic and international conditions, if the needy people benefit from the medical insurance policy due to the fear of incurring any unbearable expenses, there is scope for it in Islamic Shariat. While getting insurance, it is better to make an agreement with the company that in return for the annual premium, the company will conduct a medical check-up at least once a year, in such a case the use of a health insurance policy is also allowed.
In one important proposal on spending interest amount in GST, it was agreed that in case the amount given in GST is not expected to be returned to the consumer or trader and that amount is directly or indirectly payable to the government, then it is permitted that the amount of interest received from the government could be used for GST payment. And if the shopkeeper receives the specified amount in the name of GST from the consumer (purchaser), then it is necessary to convey this amount to the government. It is not right to hide it by the shoppers.

In the other proposal regarding the limited company, it was determined that limited company is in principle a similar to Mudharabat (legal term used in Islamic sharia), so if the main business of such a company does not consist of gambling, interest and trading of haram goods. It is permissible to establish such a company and to participate in it, to be employed and earn profits from it. If such a limited company becomes insolvent, then responsible are required to pay off the debts and other arrears by selling the movable and immovable property and assets, even after that, if there is any remaining liability and if there is carelessness and negligence on the part of the responsible, the payment will still be obligatory on them.
Apart from resolution, some important sermons were also delivered by some great Islamic scholars like Maulana Arshad Madani and Maulana Mahmood Madani presidents of Jamiat Ulama-i-Hind) Maulana Mufti Abul Qasim Naumani rector Darul Uloom Deoabnd, Maulana Rahmatullah Kashmiri, Mufti Muhammad Rashid Azmi, Mufti Atiq Ahmad Bastavi, Mufti Salman Mansoorpuri. Besides that great Islamic scholars like Maulana Sagheer Ahmed Khan Rashadi, Mufti Shoaibullah Khan Miftahi Bangalore, Maulana Maqsood Imran Bangalore, Maulana Mahmood Hasan Khairwa, Maulana Zaheer Bangladesh, Maulana Yasir Nadeem America attended the gathering as special guests. Among some notable figures who participated in debates include Mufti Nazir Ahmad Bandipora Kashmir, Mufti Shabbir Ahmad Qasmi Shahi Moradabad, Maulana Mujibullah Gondwi Darul Uloom Deoband, Mufti Zainul Islam Mufti Darul Uloom Deoband, Mufti Syed Masoom Saqib Qasmi, Mufti Abdul Razzaq Amrohawi, Mufti Amanat Ali Waqf. Darul Uloom, Mufti Sanul Huda Qasmi, Mufti Akhtar Imam Adil Bihar, Maulana Mufti Zaid Mazahiri Darul Uloom Nadwat Ulama, Maulana Zafar Alam Nadwi Darul Uloom Nadwat Ulama, Mufti Saleh Mazahir Uloom, Maulana Badr Ahmad Mujibi Patna, Mufti Zainul Abidin Karnataka, Mufti Iftikhar President of Jamiat Ulama Karnataka, Mufti Shamsuddin Bajli Karnataka, Mufti Affan Mansoorpuri, Mufti Asaduddin Qasmi etc. Maulana Mufti Muhammad Affan Mansoorpuri and Mufti Abdul Razzaq Amrohavi jointly conducted the event. At the last, Maulana Hakeemuddin Qasmi JUH GS thanked all the guests.

 

 

 

 

 

Aug. 14, 2022